لاہور حکومت پنجاب کا شیلٹر ہومز کامنصوبہ ہزاروں افراد کی بجائے صرف چند سوبے سہارا لوگوں تک محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا،جبکہ شیلٹرہومز منصوبے کی تعمیر پر 70کروڑ لاگت آئے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے کروڑوں روپے کی مالیت کے منصوبے سے صرف700بے سہارا لوگ مستفید ہوسکیں گے۔ شیلٹرہومز منصوبے کی تعمیر پر 70کروڑ لاگت آئے گی،جس سے منصوبہ سفید ہاتھی بننے کا خدشہ پیدا ہوگیا،لاہور میں ہزاروں بے سہارا لوگ اور مسافر رہائش اختیار کرتے ہیں، مسافروں کو ایسے مسافر بھی شامل ہوتے ہیں جن کی رقم خرچ کرکے ہوٹل یا کسی دوسری جگہ رہائش لینے کی استطاعت نہیں ہوتی۔
قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹھوکر نیاز بیگ ،ریلوے اسٹیشن ، بادامی باغ، لاری اڈا، اور بھاٹی چوک میں مختلف محکموں کی قیمت45کروڑمالیت کی قیمتی کمرشل اراضی پر کروڑو ں کی لاگت سے شیلٹرہومز کا منصوبہ زیرتعمیر ہے، منصوبے کی تعمیر کیلئے ایل ڈی اے کو 20فروری تک کی ڈیڈلائن دی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شیلٹرہومز کیلئے پانچ مقامات پر2،2کنال اراضی مختص کی گئی ہے ۔
یہ قیمتی زمین مختلف محکموں کی مالیت ہے، زمین کی قیمت تقریباً45کروڑ بنتی ہے، زمین کے علاوہ منصوبے کی تعمیر پر بھی کروڑوں روپے خرچ کیے جائیں گے۔ریلوے اسٹیشن پر محکمہ ٹرانسپورٹ ، لاری اڈہ بیت المال، بادامی باغ میں ایل ڈی اے ،ٹھوکرنیاز بیگ میں محکمہ آبپاشی ، جبکہ بھاٹی چوک میں محکمہ اوقاف کی دو،دوکنال پرمشتمل قیمتی اراضی لی گئی ہے۔
منصوبے کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ این اوسی حاصل کرنااور قانونی رکاوٹوں کو دورکرنا تھا،رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ شیلٹرہومز میں ایک وقت میں 535مرداور 124خواتین الگ الگ قیام کرسکیں گی۔جس کے تحت بھاٹی چوک، بادامی باغ میں 128،128مرداور 16،16خواتین رہائش پذیر ہوسکیں گی۔تاہم شیلٹرہومز میں کل سات سوبے سہارا افراد رہائش اختیار کرسکیں گے۔