گوادر: پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملہ، پانچ لاشیں ہسپتال منتقل، کلیئرنس آپریشن جاری

پاکستانی فوج کے مطابق صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر مسلح افراد کے حملے کے بعد کارروائی کے نتیجے میں ابتدائی طور پر پانچ ہلاکتوں اور چھ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ہوٹل میں سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹPEARL CONTINENTAL HOTELپرل کانٹینینٹل ہوٹل گوادر

ہلاک ہونے والوں میں پی سی ہوٹل کے چار ملازمین جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ایک اہلکار شامل ہے۔

حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو جی ڈی اے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سول ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے زخمیوں کو جی ڈی اے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ہوٹل پر حملہ مقامی وقت کے مطابق سنیچر کی شام چار بجکر 40 منٹ پر کیا گیا۔

حملہ آوروں کی تعداد تین بتائی گئی ہے جنھوں نے ہوٹل میں داخلے کی کوشش کی اور گارڈ کی جانب سے مزاحمت کرنے پر اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ڈی آئی جی مکران منیر احمد راؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں پی سی ہوٹل کے تین ملازمین شامل ہیں جن میں سے دو گارڈز تھے اور کچھ دیر پہلے ہمیں ایک اور ملازم کی لاش چوتھی منزل سے ملی ہے۔‘

انھوں نے نو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی ہے۔

ڈی آئی جی مکران منیر احمد راؤ کا کہنا تھا کہ فی الحال سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے کیونکہ حملہ آور ہوٹل میں موجود کسی نامعلوم مقام پر چھپے ہوئے ہیں۔

ان کے بقول 'ہوٹل میں 100 سے زائد کمرے ہیں، ایک ایک کر کے چیک کرنے اور حملہ آوروں کو ڈھونڈنے میں وقت لگے گا۔'