روز مرہ کے استعمال کی ایسی چیزیں جس کی 'مدت معیاد' سے ہم لاعلم ہیں

ہمارے استعمال کی ہر چیز کی ’مدت معیاد‘ ہوتی ہے جس کو دیکھنے کے بعد ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا یہ چیز قابل استعمال ہے یہ نہیں۔

کیا ہم نے تکیہ پھیکنے کہ بارے میں کبھی سوچا ہوگا؟ تکیے کو ہم صرف دو سے تین سال استعمال کرسکتے ہیں اور وہ اس وجہ سے، کہ کافی عرصے سے ایک ہی تکیے پر روزانہ سونے سے اس پر انسان کے جسم سے جھڑنے والے خلیات وقت کے ساتھ ساتھ جمع ہوتے جاتے ہیں ۔

کبھی صبح اٹھتے ساتھ ہی آپ کو اگر چھینکیں آنا شروع ہوجاہئیں تو اس کی وجہ یہی خلیات ہو سکتے ہیں، اس کے علاوہ تکیہ جتنا پرانا ہوتا ہے اس کی شکل بھی تبدیل ہوجاتی ہے جو کہ گردن کے درد کا باعث بنتا ہے۔

2. بند جوتے:

جب تولیہ پانی جذب کرنا چھوڑ دے تو سمجھ جائیں کہ اس تولیہ کی معیاد ختم ہو چکی ہے اور اب یہ قابل استعمال نہیں ہے، گیلی جگہوں پر جراثیم تیزی سے جنم لیتے ہیں اور اگر ایسی تولیہ جو پانی درست طریقے سے جذب نہیں کرتی تو اس میں جراثیم ہوتے ہیں جو کہ دھونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔

4. دانت صاف کرنے والا برش:

جس برش سے آپ سر میں کنگھا کرتے ہیں، کنگھا کرنے کے دوران صرف بال نہیں ہوتے جو اس میں جمع ہوتے ہیں۔

دھول، اور سر کے خلیات بھی اس کی تہہ میں جمع ہوتے جاتے ہیں اور جب جب آپ اسی برش سے کنگھا کرتے ہیں یہ واپس آپ کی سر کی جلد پر لگتی ہے جس سے بے شمار بیماریاں جنم لے سکتی ہیں ۔ بالوں کے برش کو ہر 6 مہینے بعد تبدیل کرنا ضروری ہے۔