کراچی میں بارش کے دوران کرنٹ و دیگر واقعات میں 20افراد ہلاک

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں راجستھان سے آنے والابارش کا سسٹم کمزور ہوگیا

بارش کا پانی جمع ہونے کے باعث سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگی ہیں—

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بارش کی شدت میں کمی کے بعد بجلی بحالی کے کاموں میں تیزی آئی ہے، تمام متاثرہ علاقوں میں بجلی جلد بحال کردی جائے گی۔

نیپرا کا نوٹس

نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی میں بجلی کی بندش اور کرنٹ لگنے سے اموات کا نوٹس لے لیا ہے۔


نیپرا کے اعلامیے کہا گیا ہےکہ کے الیکٹرک کے شکایتی مراکز کا صارفین کی ٹیلی فون کالز کا جواب نہ دینا پریشان کن ہے۔

اعلامیے میں کے الیکٹرک سے پوچھا گیا کہ میڈیار پورٹس کے مطابق کراچی میں کرنٹ لگنے سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے، متوقع بارشوں کے باوجود حفاظتی اقدامات کیوں نہ کیے گئے؟

نیپرا نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے بجلی کی فوری بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔  

کراچی میں بدھ کو تمام تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے

شہر میں پیر سے شروع ہونے والی مسلسل بارش کے باعث منگل کو تمام نجی و سرکاری اسکولز اور کالجز بند رہے تاہم بدھ کو محکمہ تعلیم سندھ نے تمام سرکاری و نجی اسکول و کالجز کھولنے کا اعلان کیا ہے۔۔

بارش کے باعث شہر کی جامعات جامعہ کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی نے بھی منگل ہونے والے تمام امتحانات منسوخ کردیے جن کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ملک کے دیگر شہروں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری

دوسری جانب حیدرآباد میں بھی رات بھر وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش جاری رہی، مسلسل بارش کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔

اس کے علاوہ ٹھٹہ، تھرپارکر، عمرکوٹ، جیکب آباد، سیہون، ٹنڈوباگو، ٹنڈوالہ یار، بدین اور پڈعیدن سمیت ساحلی پٹی پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

پنجاب میں بھی مری، لیہ، بھکر، چشتیاں میں بارش ہو رہی ہے جب کہ بلوچستان میں خضدار اور ڈیرا مراد جمالی میں بھی بادل برس رہے ہیں۔