گھر کا کم از کم نقصان 50 لاکھ سے زائد کا ہوا ہے: متاثرہ گھر کے رہائشی شازان معظم کا مؤقف
شازان معظم کے مطابق "اچانک ہی ہمارا گھر دھوئیں اور گرد سے بھر گیا اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، میں اپنی اور والدہ کی جان بچانے کے لیے تیزی سے چھت کی طرف بھاگا تو چھت پر آگ لگی تھی اور ارد گھر ہر طرف چیخ و پکار تھی، میں نے گھر کے عقب سے اپنی والدہ کو ایک منزلہ اونچی عمارت پر چڑھایا جس کے بعد میں خود بھی پچھلے گھر کی چھت پر چڑھ گیا، ہر طرف آگ، دھواں اور لوگوں کی چیخوں کے علاوہ کچھ نہیں سنائی دے رہا تھا۔"
شازان معظم نے بتایا کہ وہ واپس اپنے گھر کی چھت پر اترے جہاں ملبے کے نیچے 2 جھلسی ہوئی لاشوں کو انہوں نے نکالنے کی کوشش بھی کی لیکن آگ اور تپش کی وجہ سے ان کے ہاتھ اور پاؤں میں چھالے بھی پڑ گئے۔
طیارے کی زد میں آنے والے متاثرہ خاندان کے دماغوں کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے
شازان کا کہنا تھا کہ اس حادثے میں ان کے گھر کو نقصان پہنچ اور ایک گاڑی مکمل طور پر جل گئی مگر وہ خوش ہیں کہ اللہ نے انہیں اور ان کی والدہ کو محفوظ رکھا۔
اس کے حوالے سے شازان معظم کا کہنا تھا کہ دنیا میں اور بھی جگہ رہائشی علاقوں سے قریب ائیر پورٹس موجود ہیں لیکن اس طرح کا واقعہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، اس درد ناک حادثے نے ان کے دماغوں کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
شازان کا کہنا تھا کہ حادثے کی وجہ سے گھروں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے اور صرف ان کے کا گھر 80 فیصد تک متاثر ہوا ہے اس میں موجود سامان، اے سی، پنکھے، سولر پینل، گاڑی اور موٹرسائیکل وغیرہ سب مکمل طور پر جل گئے ہیں یا ناقابل استعمال ہو چکے ہیں جب کہ گھر کی بنیادیں تک ہل گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حادثے کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور اب تک ان کے گھر کے سامنے سے ملبہ تک نہیں ہٹا جب کہ بجلی اور گیس بھی اب تک بحال نہیں کی گئی، حکومت کی اس سُست رفتاری کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان کی گھر کی مرمت کا کام ایک سال بعد ہی شروع کیا جائے گا۔
حادثے کو 6 دن گزر چکے ہیں اور اب تک ان کے گھر کے سامنے سے ملبہ تک نہیں ہٹا اور نہ ہی بجلی اور گیس بحال ہوئی: متاثرہ گھر کا رہائشی
22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز پی کے 8303 ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے چند سیکنڈ پہلے آبادی پر گر کر تباہ ہوگئی تھی۔ اس طیارے میں عملے کے 8 اراکین سمیت 99 افراد سوار تھے جن میں سے معجزاتی طور پر 2 افراد بچ بھی گئے تھے۔
طیارے حادثے کے حوالے سے تاحال تحقیقات کی جا رہی ہیں اور سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔