شہریوں کیلئے 'دل کی بھڑاس نکالنے کا کمرہ' متعارف

اس کمرے میں لوگوں کے سخت ترین غصے کا عتاب سہنے کے لیے ہرقسم کا کاٹ کباڑ جمع کیا گیا ہے—

اس اینگر روم میں لوگ ماہانہ 15 ہزار بوتلیں توڑ کر اپنا غصہ نکالتے ہیں25 سالہ جن مینگ کے مطابق ان کا استعمال شدہ اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں سے رابطہ ہے، جہاں سے انہیں ٹوٹی پھوٹی اشیاء مثلاً ٹی وی، ٹیلی فون، گھڑیاں، برتن، مجمسے، ساؤنڈ ریکارڈر اور اسپیکرز وغیرہ کی سپلائی ملتی رہتی ہے۔

جن مینگ کے مطابق یہ جگہ تشدد کے فروغ کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کا اسٹریس کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے—۔جن مینگ کے مطابق ان کا منصوبہ ہے کہ ایک ایسا ہی اینگر روم کسی شاپنگ مال میں بھی کھولا جائے جہاں لوگ خریداری کے ساتھ ساتھ اپنا غصہ بھی نکال سکیں۔

یہ انوکھی سروس صرف 23 امریکی ڈالر فیس کے عوض آدھے گھنٹے کے لیے حاصل کی جاسکتی ہے، جبکہ چار افراد کے گروپ کی صورت میں یہ رقم 75 امریکی ڈالر ہوجاتی ہے۔

واضح رہے  کہ اینگر روم اس سے قبل امریکا اور دیگر ممالک میں بھی قائم ہیں، لیکن چین میں یہ تجربہ پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔